یہودی درخت غرقد:
تصاویر میں دکھائی گئی تمام اشیاء پر ایک درخت کی تصویر بنی ھوئی ہے جسے غور سے دیکھنے پر معلوم ہوگا کہ اس میں ایک مرد اور ایک عورت ایک درخت کے پیچھے چھپے ہوئے ہیں۔ یہی شجر غرقد ہے۔
پورے اسرائیل میں اس درخت کو انتہائی تیزرفتاری سے کاشت کیا جا رہاہے۔ غرقد کی کاشت کی مہم اسرائیلی نہ صرف ریاستی بلکہ اب بین القوامی سطح پر چلا رہے ہیں۔ خودسابق اسرائیلی وزیراعظم اس تصویر میں ایک جگہ یہی درخت لگاتا ہوا نظر آ رہاہے۔
اس کے علاوہ اسرائیل نے انڈیا سے بھی کہا ھے کہ وہ اپنے ملک کی تمام بنجر اراضی پر غرقد کی کاشت کرے جس کا تمام تر معاوضہ اسرائیل برداشت کرے گا۔
اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا تمام یہودی پاگل ہوچکے ہیں؟ نہیں دنیا کے تمام وسائل پر قابض یہودی پاگل نہیں ہیں یہ بہت ذہین قوم ہے ۔ یہ قوم اپنے مذھب سے زیادہ اسلام کی سچائی پر یقین رکھتی ھے۔ ان لوگوں نے احادیث کی تمام کتابیں پڑھ رکھی ہیں۔ غرقد کی کاشت کی مہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث پاک کی وجہ سے چلائی جا رہی ہے۔ صحیح مسلم کی وہ حدیث درج ذیل ہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ مسلمان یہودیوں سے جنگ کریں اور مسلمان انہیں قتل کردیں یہاں تک کہ یہودی پتھر یا درخت کے پیچھے چھپیں گے تو پتھر یا درخت کہے گا اے مسلمان اے عبداللہ یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کردو سوائے درخت غرقد کے کیونکہ وہ یہود کے درختوں میں سے ہے۔
صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2838 / 14635حدیث مرفوع مکررات 7 متفق علیہ 6
یہاں تک کہ اب اسرائیل مختلف این جی اوز کے ذریعے دنیا بھر میں ان درختوں کی کاشت پر زور دے رہا ہے۔ افغانستان سمیت کئی ممالک ایسے ہیں جن میں اسرائیل ماحولیاتی آلودگی کے نام پر غرقد کی کاشت بڑے پیمانے پر کر رہا ہے۔ اس کیلئے ‘سیو دی غرقد ٹری’ نامی ایک مہم بھی چلائی جارہی ہے۔ جس کی فنڈنگ جیوش نیشنل فنڈ نامی ایک ادارہ کر رہا ہے۔ اس ادارے کی بنیاد 1901 میں رکھی گئی تھی۔
یہودیوں نے سرکاری طور پر غرقد کے درخت کو قومی اور مذہبی پہچان دے دی ہم مانیں یا نہ مانیں یہودی ہمارے نبی کے فرمان کو مان کر اپنی سلطنت کو وسیع اور جان بچانے کیلئے غرقد کی آبیاری کر چکے ہیں لیکن وہ یہ بھول چکے ہیں کہ مشہت ایزدی نے امام مہدی اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی شکل ان کی تباہی کا سامان تیار کررکھا
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
۔*القسام بریگیڈ اور سرایا القدس کی مشترکہ کارروائی، 3 اسرائیلی فوجی ہلاک کئی ٹینک اور بلڈوزرتباہ*
فلسطین کے اسلامی استقامتی محاذ نے غاصب صیہونیوں پر کاری وار کئے ہیں ۔
تحریک حماس کے فوجی بازو القسام بریگيڈ نے اعلان کیا ہے کہ اس کے جوانوں نے شفاء اسپتال کے اطراف میں صیہونی فوجیوں پر کاری ضرب لگائی ہے۔
فلسطین الیوم کی رپورٹ کے مطابق شفاء اسپتال میں صیہونی فوجیوں کے جرائم کے ساتھ ہی استقامت کے جوان اسپتال کے اطراف میں غاصب صیہونی فوجیوں کا مقابلہ کررہے ہيں ،القسام بریگیڈ نے اعلان کیا ہے کہ اس کے جوانوں نے جہاد اسلامی فلسطین کی فوجی شاخ سرایا القدس کے ساتھ مل کر شفاء اسپتال کے اطراف میں غاصب صیہونی فوجیوں پر مارٹر حملہ کیا ہے۔
القسام بریگيڈ کے جوانوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے شفاء اسپتال کے اطراف میں تین صیہونی فوجیوں کو ہلاک کیا ہے۔
القسام بریگیڈ نے شمالی غزہ کے علاقے شمال مشرقی بیت حانون میں صیہونی فوج کا بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے اس کے ایک مرکاوا ٹینک اور ڈی نو ماڈل کے ایک بلڈوزر کو نشانہ بنایا ہے۔
دوسری جانب فلسطین کی تحریک حماس نے غزہ پر حملہ جاری رکھنے کے بارے میں صیہونی وزیراعظم کے اصرار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے عالمی برادری کے لئے مزید پیچیدہ مسائل پیدا ہوں گے۔
فلسطین کی تحریک حماس نے رفح پر حملہ کرنے کے لئے نیتن یاہو کی دھمکی کو عالمی برادری کے انتباہ اور مواقف کو نظرانداز کئے جانے سے تعبیر کیا۔ حماس نے اسی طرح سیاسی مقاصد کے لئے نیتن یاہو کی جانب سے غزہ کے عام شہریوں کے خلاف جاری قتل عام و جارحیت کے اقدام سے نفرت و بیزاری کا اظہار کیا۔
حماس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ پر حملہ جاری رکھنے کے بارے میں صیہونی وزیراعظم کے اصرار سے عالمی برادری کے لئے مزید پیچیدہ مسائل پیدا ہوں گے۔
یہ ایسی حالت میں ہے کہ غزہ کے خلاف جاری جنگ اور رفح پر حملہ کرنے کی صیہونی دھمکیوں سے حالات مزید بگڑتے جا رہے ہیں۔ فلسطین کی تحریک حماس نے تاکید کی ہے کہ رفح پر حملہ کرنے کے لئے نیتن یاہو کی دھمکی عالمی برادری کے انتباہ اور مواقف کو نظرانداز کئے جانے کے مترادف ہے جس کے بھیانک نتائج برآمد ہوں گے اور یہ ایسی حالت میں ہے کہ امریکی صدر جوبائیڈن اسرائیل کی جارحیت اور جنگ جاری رکھے جانے کی مسلسل حمایت کرتے رہے ہیں.
آج ایک خبر گردش کر رہی ہے کہ سرجانی ٹاؤن سیکٹر L-1 میں واقع جامع مسجد سعیدہ میں ڈاکو داخل ہو گئے اور تمام نمازیوں کو اور آئی ہوئی تبلیغی جماعت کو لوٹ لیا۔ اس خبر کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں اور اس قسم کا کوئی
واقعہ پیش نہیں آیا۔ اس قسم کی خبریں پھیلا کر لوگوں کو مساجد سے دور کیا جا رہا ہے تاکہ ڈر اور خوف کی وجہ سے لوگ مساجد نہ جائیں اور اعتکاف میں نہ بیٹھیں۔ اس لئے اس قسم کی کوئی بھی خبر بلا تحقیق کیئے آگے بڑھانے سے مکمل طور پر اجتناب کریں۔ جزاک اللہ خیر ۔
منجانب مفتی محمد سعد فاروقی ذمہ دار جامع مسجد سعیدہ سیکٹر L-1 سرجانی ٹاؤن کراچی ۔


Post a Comment